تحریر نمبر9
غسل کا سنت طریقہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ بندہ حالت جنابت میں ہو تو غسل کا طریقہ کیا ہے تفصیلات کے مطابق اسان الفاظ میں فقہ حنفی اور قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب عنایت فرما مادیں؟
(سائل محمد احسان میمن کراچی)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ*
*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*
(قال اللہ تبارک و تعالیٰ فی القرآن المجید(وَاِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوْا-
(یعنی: اور اگر تمہیں نہانے کی حاجت ہو تو خوب ستھرے ہو لو-
*(پارہ 6، المائدہ،آیت6)*
(جنابت کا عام فہم مطلب یہ ہے کہ شہوت کے ساتھ منی کا خارج ہونا- حدیث شریف میں ہے، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَتْ مَيْمُونَةُ وَضَعْتُ لِلنَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غُسْلًا فَسَتَرْتُهُ بِثَوْبٍ وَصَبَّ عَلَی يَدَيْهِ فَغَسَلَهُمَا ثُمَّ صَبَّ بِيَمِينِهِ عَلَی شِمَالِهِ فَغَسَلَ فَرْجَهُ فَضَرَبَ بِيَدِهِ الْأَرْضَ فَمَسَحَهَا ثُمَّ غَسَلَهَا فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ وَغَسَلَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ ثُمَّ صَبَّ عَلَی رَأْسِهِ وَأَفَاضَ عَلَی جَسَدِهِ ثُمَّ تَنَحَّی فَغَسَلَ قَدَمَيْهِ فَنَاوَلْتُهُ ثَوْبًا فَلَمْ يَأْخُذْهُ فَانْطَلَقَ وَهُوَ يَنْفُضُ يَدَيْهِ-
(یعنی: حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ حضرت میمونہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے لئے غسل کا پانی رکھ دیا اور آپ ﷺ کے لئے پردہ ڈال دیا، آپ نے اپنے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ان کو دھویا، پھر اپنے داہنے ہاتھ سے بائیں ہاتھ پر پانی ڈالا اور استنجا کیا، پھر اپنا ہاتھ زمین پر مار کر اس کو ملا، پھر اسے دھویا اس کے بعد کلی کی اور ناک میں پانی لیا اور منہ اور ہاتھوں کو دھویا پھر اپنے سر پر پانی ڈالا اور باقی بدن پر پانی بہایا اس کے بعد وہاں سے ہٹ گئے اور اپنے دونوں پیر دھوئے پھر میں نے ایک کپڑا (بدن پو نچھنے کے لئے آپ ﷺ کی طرف بڑھایا، مگر آپ ﷺ نے اسے نہیں لیا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے بدن کو جھاڑ تے ہوئے چلے آئے-
*(صحیح البخاری کتاب غسل کا بیان، رقم،276)*
اس حدیثِ مبارکہ کے تحت حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ غسل کی ترتیب یہ ہوئی کہ پہلے ہاتھ دھوئے جائیں، پھر استنجاء، پھر وضو کیا جائے، پھر جسم پر بہایا جائے، چونکہ کچی زمین پر غسل فرمایا تھا اس لیے وضو کے ساتھ پاؤں نہ دھوئے بلکہ بعد میں دھوئے اگر پختہ زمین پر غسل ہو تو پاؤں پہلے دھولیے جائیں، خیال رہے کہ یہاں مسح سر کا ذکر نہیں یا تو حضور نے مسح کیا ہی نہیں کیونکہ سر کے دھلنے میں مسح بھی ہوجاتا ہے، یا مسح کیا تھا مگر ذکر نہیں لہذا یہ حدیث پہلی حدیث کے خلاف نہیں جس میں مسح کا ذکر ہے۔ یا اس لئے کہ کپڑا صاف نہ تھا یا آپ جلدی میں تھے، یا وقت گرمی کا تھا، جسم کی تری اچھی معلوم ہوتی تھی، یا اس لئے کہ غسل و وضو کا پانی نہ پونچھنا افضل۔بہرحال اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پونچھنا ممنوع ہے کیونکہ پچھلی روایتوں میں پونچھنے کا ثبوت بھی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وضو اور غسل کے بعد جسم پر جو تری رہ جاتی ہے وہ ماءمستعمل نہیں-
*(مرآۃ المناجیح جلد1،صفحہ285-مطبوعہ نعیمی کتب خانہ گجرات)*
(مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ غسل کے سنت طریقے کے حوالے سے تحریر فرماتے ہیں، کہ غُسل کی نیّت کر کے پہلے دونوں ہاتھ گٹوں تک تین مرتبہ دھوئے پھر استنجے کی جگہ دھوئے خواہ نَجاست ہو یا نہ ہو پھر بدن پر جہاں کہیں نَجاست ہو اس کو دور کرے پھر نماز کا سا وُضو کرے مگر پاؤں نہ دھوئے، ہاں اگر چوکی یا تختے یا پتھر پر نہائے تو پاؤں بھی دھولے پھر بدن پر تیل کی طرح پانی چُپَڑ لے خصوصاََ جاڑے(یعنی سردی میں پھر تین مرتبہ دہنے مونڈھے پر پانی بہائے پھر بائیں مونڈھے پر تین بار پھر سر پر اور تمام بدن پر تین بار پھر جائے غُسل سے الگ ہو جائے، اگر وُضو کرنے میں پاؤں نہیں دھوئے تھے تو اب دھولے اور نہانے میں قِبلہ رُخ نہ ہو اور تمام بدن پر ہاتھ پھیرے اور ملے اور ایسی جگہ نہائے کہ کوئی نہ دیکھے اور اگر یہ نہ ہو سکے تو ناف سے گھٹنے تک کے اعضا کا سِتْر تو ضروری ہے، اگر اتنا بھی ممکن نہ ہو تو تیمم کر ے مگر یہ احتمال بہت بعید ہے اور کسی قسم کا کلام نہ کرے۔ نہ کوئی دعا پڑھے۔ بعد نہانے کے رومال سے بدن پونچھ ڈالے تو حَرَج نہیں-
*(بہار شریعت حصہ2،صفحہ319تا 320- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ کراچی)*
*واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ*
✍کتبــــــــــــــــــــــہ
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پنجاب پاکستان
🤳🏻03137606372
6-10-2019
الجواب صحیح والمجیب مثاب
فقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ
خادم الافتاء والحدیث دار العلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ بنگال ھند
0 تبصرے