تحریر نمبر۸
جھنڈے لگانے کا مسئلہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ بیع الاول کے موقع پر جو جھنڈے لگائے جاتے ہیں یہ لگانا کیسا ہے اور کس کتاب میں اس کا ذکر ہے؟
(سائل قاری مزمل حسین)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ*
*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*
(صورت مسئولہ میں میلاد النبی کے موقع پر جھنڈے لگا نا بالکل جائز ہیں اور جھنڈے لگانے والی روایت متعدد معتبر کتب میں موجود ہے، حضرت آمنہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،
(رأیت ثلاثۃ أعْلام مضروبات علمافی المشرق وعلمافِی المغرب وعلماعلی ظھر الکعبۃ..فَولدت محمدًصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم-
(یعنی: حضرت آمنہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے۔ ایک مـشرق میں، دوسرا مـغـرب میں،
تیسرا کعبـے کی چھت پر اور آپ ﷺ کی ولادت ہوگئی-
*(خصائص کبریٰ ج1ص82)*
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس روایت کو اپنی کتاب الخصائص الکبریٰ میں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: قلت هَذَا الاثر والاثران قبله فِيهَا نَكَارَة شَدِيدَة وَلم أورد فِي كتابي هَذَا اشد نَكَارَة مِنْهَا وَلم تكن نَفسِي لتطيب بايرادها لكني تبِعت الْحَافِظ أَبَا نعيم فِي ذَلِك-
(یعنی: میں نے اپنی اس کتاب میں اس سے زیادہ منکر روایت کوئی بھی بیان نہیں کی-
اور کثیر علمائے کرام نے اپنی کتب میں اس روایت کو تحریر فرما یا ہے، مثلاََ ابن کثیر، علامہ حلبی، علامہ ابن حجر ہیتمی، علامہ زرقانی، اور علامہ مقریزی وغیرہ نے اس کو اپنی کتب میں بطور دلیل ذکر فرمایا ہے اور اس پر نکیر نہیں فرمایا اس وجہ سے یہ روایت فقط ضعیف ہے اور ضعیف حدیث فضائل میں قابل قبول ہوتی ہے-
حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں ابو نعیم کی اسی روایت کے متعلق فرمایا: وهو غريب جدا..
چند کتب کے حوالہ جات
جن میں اس روایت کو نقل کیا گیا ہے-
*(سیرتِ حلبیہ-ج1- ص109)*
*(مدارج النبوّۃ-ج2-ص32)*
*(دلائل النبوّۃ-جلد1صفحہ363 رقم حدیث 555)*
*(البدایہ والنھایۃ-ج6-ص299)*
*(شواہدالنبوۃ-ص55)*
*(مواہب اللدنیا جلد 1آیات ولادت صلی اللہُ علیہ وسلم)*
*(خطبات ربیع النور صفحہ.235)*
*واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ*
✍کتبــــــــــــــــــــــہ
ابورضا محمد عمران عطاری مد*تحریر نمبر8*
جھنڈے لگانے کا مسئلہ
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ بیع الاول کے موقع پر جو جھنڈے لگائے جاتے ہیں یہ لگانا کیسا ہے اور کس کتاب میں اس کا ذکر ہے؟
(سائل قاری مزمل حسین)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ*
*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*
(صورت مسئولہ میں میلاد النبی کے موقع پر جھنڈے لگا نا بالکل جائز ہیں اور جھنڈے لگانے والی روایت متعدد معتبر کتب میں موجود ہے، حضرت آمنہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں،
(رأیت ثلاثۃ أعْلام مضروبات علمافی المشرق وعلمافِی المغرب وعلماعلی ظھر الکعبۃ..فَولدت محمدًصلی اللہ تعالیٰ علیہ والہ و سلم-
(یعنی: حضرت آمنہ رضی اللہُ تعالیٰ عنہا کا بیان ہے میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نصب کئے گئے۔ ایک مـشرق میں، دوسرا مـغـرب میں،
تیسرا کعبـے کی چھت پر اور آپ ﷺ کی ولادت ہوگئی-
*(خصائص کبریٰ ج1ص82)*
امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس روایت کو اپنی کتاب الخصائص الکبریٰ میں نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: قلت هَذَا الاثر والاثران قبله فِيهَا نَكَارَة شَدِيدَة وَلم أورد فِي كتابي هَذَا اشد نَكَارَة مِنْهَا وَلم تكن نَفسِي لتطيب بايرادها لكني تبِعت الْحَافِظ أَبَا نعيم فِي ذَلِك-
(یعنی: میں نے اپنی اس کتاب میں اس سے زیادہ منکر روایت کوئی بھی بیان نہیں کی-
اور کثیر علمائے کرام نے اپنی کتب میں اس روایت کو تحریر فرما یا ہے، مثلاََ ابن کثیر، علامہ حلبی، علامہ ابن حجر ہیتمی، علامہ زرقانی، اور علامہ مقریزی وغیرہ نے اس کو اپنی کتب میں بطور دلیل ذکر فرمایا ہے اور اس پر نکیر نہیں فرمایا اس وجہ سے یہ روایت فقط ضعیف ہے اور ضعیف حدیث فضائل میں قابل قبول ہوتی ہے-
حافظ ابن کثیر نے البدایہ والنھایہ میں ابو نعیم کی اسی روایت کے متعلق فرمایا: وهو غريب جدا..
چند کتب کے حوالہ جات
جن میں اس روایت کو نقل کیا گیا ہے-
*(سیرتِ حلبیہ-ج1- ص109)*
*(مدارج النبوّۃ-ج2-ص32)*
*(دلائل النبوّۃ-جلد1صفحہ363 رقم حدیث 555)*
*(البدایہ والنھایۃ-ج6-ص299)*
*(شواہدالنبوۃ-ص55)*
*(مواہب اللدنیا جلد 1آیات ولادت صلی اللہُ علیہ وسلم)*
*(خطبات ربیع النور صفحہ.235)*
*واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ*
✍کتبــــــــــــــــــــــہ
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی
🤳🏻03137606372
(5-10-2019نی
🤳🏻03137606372
(5-10-2019
0 تبصرے