تحریر نمبر10

 

نماز فجر میں امام التحیات میں ہو مقتدی کے لئے سنتیں پڑھنے کا حکم


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ بندہ وضو کر کے نماز فجر کے لئے ایسے وقت میں آیا کہ امام قعدہ اخیرہ میں ہے، اب سنت پڑھتا ہے تو جماعت جاتی ہے اور جماعت میں ملتا ہے تو سنتیں فوت ہوجائیں گی اس صورت میں سنتیں پڑھے یا قعدہ میں مل جائے، اور قعدہ میں ملنے سے اگر سنتیں رہ جائیں تو کس وقت پڑھیں؟

(سائل عبد الرؤف لاہور)

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

 *وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ* 


*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*

(مذکورہ صورت میں اس نمازی کو چاہیے کہ جماعت میں شامل ہو جائے اور سنتیں بعد میں پڑھ لے کیونکہ نماز فجر میں نمازی کے لئے حکم یہ ہے کہ اگر یہ جانتا ہو کہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں شامل ہوجائے گا تو پہلے سنتیں پڑھ لے اور اگر یہ گمان ہو کہ سنتیں پڑھوں گا جماعت نکل جائے گی تو جماعت میں شریک ہو جائے اور سنتیں طلوع آفتاب کے20منٹ بعد پڑھ لے-

(فی الدر المختار، اذاخاف فوت رکعتی الفجر لاشتغالہ بسنتھا ترکہا الجماعۃ اکمل-

(یعنی: درمختار میں ہے، جب کسی کو یہ خطرہ ہو کہ اگر فجر کی سنتیں ادا کرے گا تو جماعت فوت ہوجائے گی تو وہ سنتیں ترک کردے کیونکہ جماعت اکمل ہے-

*(درمختار باب ادراک الفریضہ،جلد1 صفحہ99-مطبوعہ مطبع مجتبائی)*

(سیدی اعلیٰ حضرت مجدد دین و ملت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ اس صورت میں بالاتفاق جماعت میں شریک ہوجائے کہ جماعت میں ملنا سنتیں پڑھنے سے اہم وآکد ہے، جب یہ جانے کہ سنتیں پڑھوں گا تو جماعت ہوچکے گی بالاتفاق جماعت میں مل جانے کا حکم ہے اگر چہ ابھی امام رکعت ثانیہ کے شروع میں ہو، قعدہ تو ختم نماز ہے اس میں کیونکہ امید ہو سکتی ہے کہ امام کے سلام سے پہلے یہ سنتیں پڑھ کر جماعت میں مل سکے گا-

(سیدی اعلیٰ حضرت مزید تحریر فرماتے ہیں، جبکہ فرض فجر پڑھ چکا تو سنتیں سورج بلند ہونے سے پہلے ہرگز نہ پڑھے، ہمارے ائمہ رحمہم ﷲ تعالٰی عنہم کا اس پر اجماع ہے بلکہ پڑھے تو سورج بلند ہونے کے بعد دوپہر سے پہلے پڑھ لے، نہ اس کے بعد پڑھے نہ اس سے پہلے- (ردالمحتارمیں ہے، اذا فاتت وجدھا فلاتقضی قبل طلوع الشمس بالاجماع لکراھۃ النفل بعد الصبح، واما بعد طلوع الشمس فکذالك عندھما وقال محمد احب الی ان یقضیھا الی الزوال-

(جب اکیلی سنن رہ گئی ہوں تو بالاجماع طلوع آفتاب سے پہلے انہیں قضانہ کرے کیونکہ اس وقت نفل نماز مکروہ ہے۔ رہا طلوع آفتاب کے بعد کا تو شیخین کے نزدیک یہی حکم ہے، مگر امام محمد رحمہ اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، کہ زوال سے پہلے پہلے ان کا ادا کر لینا مجھے پسند ہے-

*(ردالمحتار باب ادراک الفریضۃ مطبوعہ سعیدکمپنی کراچی،جلد2،صفحہ57)*

*(بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد7 صفحہ424تا 425-مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

(بہار شریعت میں ہے، کہ جماعت قائم ہونے کے بعد کسی نفل کا شروع کرنا جائز نہیں، سوا سنت فجر کے کہ اگر یہ جانے کہ سنت پڑھنے کے بعد جماعت مل جائے گی، اگرچہ قعدہ ہی میں شامل ہوگا تو سنت پڑھ لے- فجر کی سنت قضا ہوگئی اور فرض پڑھ لیے تو اب سنتوں کی قضا نہیں، البتہ امام محمد رحمۃﷲ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں، کہ طلوع آفتاب کے بعد پڑھ لے تو بہتر ہے اور طلوع سے پیشتر بالاتفاق ممنوع ہے، آج کل اکثر عوام بعد فرض فوراً پڑھ لیا کرتے ہیں یہ ناجائز ہے، پڑھنا ہو تو آفتاب بلند ہونے کے بعدزوال سے پہلے پڑھیں-

*(بہار شریعت حصہ4 صفحہ664تا 665-مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*


*واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ* 


✍کتبــــــــــــــــــــــہ

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی  

🤳🏻03137606372

10-10-2019


الجواب صحیح والمجیب مثاب

فقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ

خادم الافتاء والحدیث دار العلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ بنگال ھند