تحریر نمبر۷
عزل کرنے کا شرعی حکم
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس بارے میں کہ اپنی بیوی کے ساتھ عزل کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟
(سائل احسن ندیم سرگودھا)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ*
*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*
(شرعی اعتبار سے عزل کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیوی سے مباشرت کرتے ہوئے وقت انزال الگ ہو جانا اور منی کا اخراج باہر کرنا تاکہ حمل نہ ٹھہر سکے یہ اگر زوجہ کی اجازت سے ہو تو جائز ہے اور اگر اس کی اجازت سے نہیں ہے تو فقہائے کرام نے ایسا کرنا مکروہ لکھا ہے-
(حدیث شریف میں ہے، عَنْ جَابِرٍ قَالَ کُنَّا نَعْزِلُ عَلَی عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَلَغَ ذَلِکَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ يَنْهَنَاعنه-
(یعنی :حضرت جابر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں عزل کرتے تھے اور اللہ کے نبی ﷺ کو یہ بات پہنچی اور آپ ﷺ نے ہمیں اس سے منع نہیں فرمایا-
*(مسلم شریف، رقم 3561)*
(حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں، کہ عزل کے معنی ہیں علیحدگی، اصطلاح میں عزل کے معنی ہیں انزال کے وقت عورت سے علیحدہ ہوجانا اور باہر منی نکالنا، تاکہ حمل قائم نہ ہو لونڈی میں تو بہرحال جائز ہے اور اپنی آزاد منکوحہ عورت میں بیوی کی اجازت سے جائز ہے، بلا اجازت مکروہ، یہ ہی عام علماء و عام صحابہ کا مذہب ہے-
*(مرآۃ المناجیح جلد5، صفحہ71 صحبت کرنے کا بیان- مطبوعہ قادری پبلشرزلاہور)*
(حدیث شریف، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللّٰهُ عَنْهُ قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَن يعْزل عَن الْحرَّة إِلَّا بِإِذْنِهَا، رَوَاهُ ابْن مَاجَه-
(یعنی: روایت ہے حضرت عمر ابن خطاب سے فرماتے ہیں، کہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ آزاد عورت سے اس کی بغیر اجازت عزل کیا جائے-
*(سنن ابن ماجہ باب العزل،رقم 1928)*
(مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس حدیثِ مبارکہ کے تحت تحریر فرماتے ہیں، لونڈی سے بغیر اس کی اجازت بھی عزل کرنا جائز ہے اور حرہ بیوی سے اس کی اجازت سے عزل کرسکتے ہیں، کیونکہ صحبت حرہ بیوی کا حق ہے اور انزال صحبت کا تتمہ ہے جس سے عورت کی تسلی ہوتی ہے۔
*(مرآۃ المناجیح جلد5، صفحہ77- مطبوعہ قادری پبلشرز لاہور)*
(مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ وطی کرنے میں اگر انزال باہر کرنا چاہتا ہے تو اس میں اجازت کی ضرورت ہے، اگر عورت حرہ یا مکاتبہ ہے تو خود اسکی اجازت سے اور کنیز بالغہ ہے تو مولی کی اجازت سے-
*(بہار شریعت،حصہ7،صفحہ 87- لونڈی غلام کے نکاح کا بیان- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*
*واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ*
✍کتبــــــــــــــــــــــہ
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پنجاب پاکستان
🤳🏻03137606372
(2/10/2019
الجواب صحیح والمجیب مثاب
فقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ
خادم الافتاء والحدیث دار العلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ بنگال ھند
0 تبصرے