تحریر نمبر6 

کیا نبی کریم علیہ الصلوۃ والسلام 
کی ولادت8 ربیع الاول ہے؟


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ نے یہ لکھاہے کہ نبی کریم صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم کی ولادت 8ربیع الاول ہے اور ولادت مبارکہ کی صحیح تاریخ کیا ہے؟

(سائل اکبر عطاری لاہور)

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

 *وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ* 


*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*

(امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کی تحقیق یہ ہے کہ ولادت مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ و سلم 12ربیع الاول ہے لیکن جب کوئی محقق وقت کسی مسئلہ پر قلم اٹھا تا ہے تو وہ اس مسئلہ سے متعلق مختلف علماء کی آراء اور اقوال بھی نقل کرتا ہے اس مقام پر امام اہلسنت سیدی اعلیٰ حضرت نے بھی اسی طرح کا طرز عمل اختیار کرتے ہوئے مختلف لوگوں کے موقف کو بھی بیان فرمایا اور علم زیج والوں کا قول بھی نقل کیا کہ وہ تمام کے تمام آٹھ ربیع الاول کو یوم ولادت قرار دیتے ہیں، محض آدھی بات کو لے کر پر وپیگنڈا کرنا اور اس بات کو چھوڑ دینا کہ امام اہلسنت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے جمہور کا موقف کس تاریخ کو قرار دیا ہے اور کس تاریخ کو جشن ولادت منانے کی تاکید کی ہے انصاف کے خلاف غلط روش ہے خود امام اہلسنت علیہ رحمہ نے اپنے کلام میں یہ شعر کہا ہے-

(بارہویں کے چاند کا مجرا ہے

سجدہ نورکا-

بارہ برجوں سے جھکا اک اک ستارہ نورکا-

(سیدی اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں، اس ولادت کی تاریخ کے بارے میں اقوال بہت مختلف ہیں(2))((8)((10))((12))

((17))((18))((22)) سات اقول ہیں-

(مگر اشہرو اکثر و ماخوذ و معتبر بارہویں ہے، مکۂ معظمہ میں ہمیشہ اسی تاریخ کو مکان مولد اقدس کی زیارت کرتے ہیں..کمافی المواھب و المدارج(جیسا کہ مواھب الدنیہ اور مدارج النبوۃ میں ہے-

(علامہ قسطلانی وفاضل زرقانی فرماتے ہیں، المشھور انہ ﷺ ولد یوم الاثنین ثانی عشر ربیع الاول وھو قول محمد بن اسحاق امام المغازی وغیرہ-

(یعنی: مشہور یہ ہے کہ حضور انور ﷺ بارہ ربیع الاول بروز پیر کو پیدا ہوئے، امام المغازی محمد بن اسحاق وغیرہ کا یہی قول ہے-

*(📚شرح الزرقانی علی المواہب اللدنیۃ المقصدالاول ذکر تزوج عبدﷲ آمنہ دارالمعرفۃ بیروت)*

*(📚بحوالہ فتاویٰ رضویہ جلد26 صفحہ410- رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

(فتاویٰ رضویہ کی اسی جلد26 میں ہے، کہ شرعِ مطہّر میں مشہور بین الجمہور ہونے کے لئے وقت عظیم ہے(یعنی جو موقف اکثر علماء کا ہو وہ خود ایک بہت بڑی دلیل ہوتی ہے، اور مشہور عندالجمہور 12 ربیع الاول ہے..اور علم ھیئت و زیجات کے حساب سے روز ولادت شریف 8ربیع الاوّل ہے، کما حققناہ فی فتاوٰنا(یعنی: سیدی اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں جیساکہ ہم نے اپنے فتاوٰی میں اس کی تحقیق کردی ہے یہ جو شبلی وغیرہ نے 9ربیع الاول لکھی کسی حساب سے صحیح نہیں، تعامل مسلمین حرمین شریفین و مصر و شام و بلاد اسلام وہند وستان میں بارہ ہی پر ہے اسی پر عمل کیا جائے-

*(📚فتاویٰ رضویہ جلد26 صفحہ427- رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

(شارح بخاری امام قسطلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ مہینے کے کس دن آپ کی ولادت با سعادت ہوئ اس سلسلے میں بھی اختلاف ہے ایک قول یہ ہے کہ کوئ متعین دن نہیں، آپ ربیع الاول کے کسی سوموار کو پیدا ہوئے لیکن جمہور کے نزدیک یہ دن متعین ہے، آپ نے مختلف اقوال بیان کرکے فرما یا مشہور یہی ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت بارہ ربیع الاول شریف سوموار کے دن  ہوئ ابن اسحاق وغیرہ کا یہی قول ہے-

*(📚مواہب اللدنیۃ جلد1 صحفہ 88- مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)*

(شیخ عبدالحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ جمہور باہل سیر اور ارباب تواریخ کا اس پر اجماع ہے کہ رسول اللہ صلی تعالیٰ علیہ والہ و سلم کی ولادت مبارک عام الفیل کے چالیس یا پچپن دن کے بعد ہوئ یہ قول سب سے زیادہ صحیح ہے، مزید تحریر فرماتے ہیں، کہ بارہ/12ربیع الاول کا قول زیادہ مشہور وا کثر ہے، اسی پر اہل مکہ کا عمل ہے، ولادت شریف کے مقام کی زیارت اسی رات کرتے ہیں، اور میلاد شریف پڑھتے ہیں.. یہ ولادت مبارک بارہویں ربیع الاول کی رات روزِ دوشنبہ واقع ہوئی-

*(📚مداج النبوّت جلد2صفحہ 30- مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)*

(امام ابن جوزی کی کتاب الوفا مترجم میں ہے، کہ آپ ﷺ کی ولادت سوار کے دن عام الفیل میں 10ربیع الاول کے بعد ہوئ، اور دوسری روایت یہ ہے کہ بارھویں رات کو عبداللہ ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے مروی ہے کہ عام الفیل میں ولادت شریف ہوئ-

*(📚سیرت سید الانبیاء ترجمہ الوفا جلد1صحفہ117- مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)*

(حضرت علامہ نورالدین عبدالرحمان جامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ ولادت ﷺ بتاریخ 12ربیع الاول بروز پیر واقعۂ فیل سے پچیس دن کے بعد ہوئ-

*(📚شواھد النبوّت صفحہ52- مطبوعہ نبویہ گنج بخش روڈ لاہور)*

(سیرت ابن ھشام میں ہے کہ نبی کریم ﷺ کی ولادت دو شنبے کے روز ربیع الاول کی بارہ راتیں گزرنے کے بعد سنہ فیل میں ہوئ-

*(📚سیرت ابن ہشام حصہ1صحفہ162- مطبوعہ اسلامی کتب خانہ لاہور)*

(حضرت علامہ محمد نور بخش توکلی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، جب حمل شریف کو چاند کے حساب سے پورے نو مہینے ہوگئے تو حضور اقدس ﷺ 12 ربیع الاول کو دوشنبہ کے دن فجر کے وقت کہ ابھی بعض ستارے آسمان پر نظر آرہے تھے پیداہوئے-

*(📚سیرت رسول عربی صفحہ57- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*


 *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم  ﷺ*


✍کتبــــــــــــــــــــــہ

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی 

📲03137606372

(29-10-2019


 *علم کی دنیا*