تحریر نمبر2
طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیسا؟
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ
طٰہٰ اور یٰسین نام رکھنا کیساہے؟
(سائلہ بنت اسد لاہور پاکستان)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ
*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*
(مذکورہ صورت میں یہ دونوں نام نہ رکھیں جائیں کیونکہ یہ دونوں حروف مقطعات میں سے ہیں اسی لئے علمائے کرام نے یہ نام رکھنے سے منع فرمایا ہے ہاں غلام طٰہٰ، اور غلام یٰسین نام رکھنے حرج نہیں ہے-
(تفسیر صراط الجنان میں ہے، کہ طٰہٰ یہ حروف مُقطِّعات میں سے ہے مفسرین نے اس حرف کے
مختلف معنیٰ بھی بیان کئے ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ طٰہٰ تاجدارِ کائنات حضور نبی اکرم ﷺ کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے اور جس طرح اللہ تعالٰی نے آپ ﷺ کا نام محمد رکھاہے اسی طرح آپ کا نام طٰہٰ بھی رکھا ہے-
*(تفسیرصراط الجنان-جلد6-صفحہ173- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*
(تفسیر صراط الجنان جلد8 میں ہے، کہ یٰسین یہ بھی حروفِ مُقطّعات میں سے ایک حرف ہے اس کی مراد اللہ تعالٰی ہی بہتر جانتا ہے نیز اس کے بارے میں مفسرین کا ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ سیدالمرسلین ﷺ کے اَسماءِ مبارکہ میں سے ایک اسم ہے-
(امام اہلسنت مجدد دین و ملت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمدرضاخان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ نے یٰسین نام رکھنےکا جو شرعی حکم بیان فرمایا ہے اس کا خلاصہ یہ ہے کہ کسی کا یٰسین، اور طٰہٰ، نام رکھنا منع ہے، کیونکہ بقولِ بعض علماء ممکن ہے کہ یہ دونوں اللہ تعالٰی کے ایسے نام ہوں جن کے معنیٰ معلوم نہیں، کیا عجب کہ ان کے وہ معنیٰ ہوں جو غیرِ خدا پر صادق نہ آسکیں اس لئے ان سے بچنا لازم ہے، اور اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ کے بقول یہ نبی کریم ﷺ کے ایسے نام ہیں جن کے معنیٰ سے واقف نہیں، ہوسکتاہے کہ ان کا کوئ ایسا معنیٰ ہو جو حضور اقدس ﷺ کے لئے خاص ہو اور آپ کے سوا کسی دوسرے کے لئے اس کا استعمال کرنا درست نہ ہو، ان ناموں کی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ رائے زیادہ مناسب ہے، کیونکہ ان ناموں کا حضور اقدس ﷺ کے لئے مُقدّس نام کے طور پر ہونا زیادہ ظاہر اور مشہور ہے-
*(فتاویٰ رضویہ جلد24 صفحہ 680 تا681- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
(نوٹ جن حضرات کا نام یٰسین ہے وہ خود کو غلام یٰسین لکھیں اور بتائیں اور دوسروں کو چاہئے کہ ان کو غلام یٰسین کہہ کر بلائیں-
*(بحوالہ تفسیر صراط الجنان جلد 8 صفحہ 220- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*
(تبیان القرآن میں، تفسیر ابن ابی حاتم کے حوالے سے ہے، کہ امام مالک بن انس سے پوچھا آیا کسی شخص کے لئے یٰسین نام رکھنا جائز ہے؟ امام مالک نے فرمایا میری رائے میں اس کو یہ نام نہیں رکھنا چاہیے کیونکہ یٰسین والقرآن الحکیم کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے یہ میرا نام ہے میں نے اپنے نام کے ساتھ اس سورت کا نام رکھا ہے-
*(تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث 18025)*
*(بحوالہ تفسیر تبیان القرآن پارہ 22 تحت سورۂ یٰسین- مطبوعہ فرید بک سٹال لاہور)*
(صدرالشریعہ بدرالطریقہ مفتی امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی تحریر فرماتے ہیں، یٰسین اور طٰہٰ نام، نہ رکھے جائیں کہ یہ مُقطّعاتِ قرآنیہ سے ہیں جن کے معنیٰ معلوم نہیں ظاہر یہ ہے کہ یہ اسمائے نبی کریم ﷺ سے ہیں، اور بعض علماء نے اسمائے اِلٰہیہ سے کہا ہے بہرحال جب معنیٰ معلوم نہیں تو ہوسکتا ہے کہ ان کے ایسے معنیٰ ہوں جو حضور ﷺ، یا اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہوں اور ان ناموں کے ساتھ محمد ملاکر، محمد طٰہٰ، یا محمد یٰسین، کہنا بھی ممانعت کو دفع نہ کرے گا-
*(بہار شریعت حصّہ16،صفحہ 605- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*
*واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ*
✍کتبــــــــــــــــــــــہ
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پاکستان
🤳🏻03137606372
28-8-2019
الجواب صحیح والمجیب مثاب
فقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ
خادم الافتاء والحدیث دار العلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ بنگال ھند
❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥
0 تبصرے