*تحریر نمبر1*
اللہ میاں یا اللہ سائیں کہنا کیسا ہے
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فر ماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اللہ تعالیٰ کے لئے سائیں اور میاں کا لفظ استعمال کرنا کیسا ہے؟
(سائل عبدالرحمن عطاری لاہور)
➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖
*وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ*
*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*
(اللہ تعالیٰ کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے ذاتی نام اللہ تعالٰی ہے، سائیں اور میاں یہ ایسے الفاظ ہیں جو اللہ رب العزت کے شایان شان نہیں ہیں اس لئے ان الفاظ کا استعمال اللہ رب العزت کے لئے ممنوع ہے-
(مام اہلسنت مجدد دین و ملت سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ سے سوال ہوا کہ اللہ میاں کہنا جائزہے یانہیں؟ تو آپ نے فرمایا زبانِ اردو میں لفظِ میاں کے تین معنیٰ ہیں ان میں سے دو ایسے ہیں جن سے شان اُلُوہیت پاک و منزہ ہے اور ایک کا مِصداق ہو سکتاہے تو جب لفظ دوخبیث معنوں میں اور ایک اچھے معنیٰ میں مشترک ٹھرا اور شرع میں وارد نہیں تو ذات باری تعالیٰ پر اس کا اطلاق ممنوع ہوگا اس کے ایک معنیٰ مولیٰ اللہ تعالیٰ بے شک مولیٰ ہے دوسرے معنیٰ شوہر تیسرے معنیٰ زنا کا دلال کہ زانی اور زانیہ میں متوسط ہو-
*(ملفوظات اعلیٰ حضرت حصہ1 صفحہ 174- مطبوعہ مکتبۃ المدینۃ)*
*(فتاویٰ رضویہ جلد14 صفحہ 614- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*
(فتاویٰ نعیمیہ میں ہے)کہ اردو زبان میں اللہ تعالیٰ کو میاں نہیں کہنا چاہئیے کیونکہ اردو میں میاں مالک کو بھی کہتے ہیں اور شوہر کو بھی، شوہر کے معنیٰ حق تعالیٰ کے شان کے خلاف ہیں، وہ نہ میاں ہے نہ بیوی، جس لفظ میں اچھے اور برے دونوں طرح کے معانی ہوں اس کا استعمال حق تعالیٰ کے لئے نہیں کرنا چاہئیے اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے(اَیًّا مَّا تَدْعُوْا فَلَهُ الْاَسْمَآءُ الْحُسْنٰىۚ- جس سے معلوم ہوا کہ خدائے پاک کے نام خالص اچھے ہونے چاہیے، قبیح معنی والے ہم اس کے لئے استعمال نہیں کرسکتے-
*(فتاویٰ نعیمیہ فتویٰ نمبر66- مطبوعہ ادارہ کتبِ اسلامیہ گجرات پاکستان)*
(حضرت علامہ مولانا مفتی محمد شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، جس لفظ کے چند معنی ہوں اور کچھ معنی خبیث ہوں اور وہ لفظ شرع میں وارد نہ ہو تو اس کا اطلاق اللہ عزوجل پر منع ہے، علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے فرمایا مجرد ایھام المعنی المحال کاف للمنع-
(یعنی: صرف محال معنی کا احتمال منع کے لئے کافی ہے
اس کی مثال راعنا ہے حضور اقدس ﷺ کے ارشادات صحابہ کرام جب اچھی طرح سن نہ پاتے یا سمجھ نہ پاتے تو عرض کرتے راعنا(یعنی: ہماری رعايت فرمائیں، یہود کی لغت میں راعنا کے معنی ہمارے بے وقوف کے ہیں یہود بھی راعنا راعنا کہنے لگے اور وہ اس معنی خبیث کی نیت سے کہتے اللہ عزوجل نے راعنا کہنے سے صحابہ کرام کو منع فرما دیا حکم ہوا انظرنا کہو اسی طرح یہاں بھی خطرہ ہے آپ اللہ عزوجل کو میاں کہیں آپ کی نیت مالک کی ہوگی لیکن کوئی دھریہ بے دین دوسرے خبیث معنی کی نیت سے کہے تو کون روکے گا وہ کہہ دے گا کہ آپ بھی تو کہتے ہیں اس لیے ایسے الفاظ کے استعمال کی اجازت نہیں-
*(شامی کتاب الحظر والإباحة، باب الاستهزاء جلد9 صفحہ567- مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)*
*(بحوالہ فتاویٰ شارح بخاری جلد1 صفحہ 233 مطبوعہ دائرۃ البرکات)*
(مفتئ اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمٰن صاحب تحریر فرماتے ہیں، کہ اللہ تعالی کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے اسم ذات اللہ ہے اس سے قریب تر صفاتی نام الرحمن ہے باقی اس کے بہت سے صفاتی نام ہیں جو قرآن و حدیث میں مذکور ہیں-مثلا الستار-الغفار- الرؤف-الرحیم- وغیرہ- اللہ تعالی کی ذات کو تعبیر کرنے کے لئے جو بھی اسماء صفات اور کلمات استعمال کئے جائیں، ان کے لئے ضروری ہے کہ ذاتِ باری تعالیٰ کے شایانِ شان ہوں، میاں، اور سائیں، ایسے کلمات اللہ تعالٰی کی ذات کے شایان شان نہیں ہیں، کیونکہ اگرچہ استعمال کرنے والا انہیں اچھے معنوں میں استعمال کر رہا ہو، لیکن ان میں کم تر معنی کا وہم پیدا ہو سکتا ہے، اس لئے اللہ تعالٰی کے اسمِ جلالت کے ساتھ ان کلمات کا استعمال درست نہیں ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ، اللہ جل شانہ، اور اللہ سبحانہ و تعالی، یا باری تعالٰی جیسے کلمات استعمال کرنے چاہئیں(ذیل میں کتبِ لغت کے حوالے سے میاں، اور سائیں کے معنی ملاحظہ فرمائیے=
(میاں اردو زبان میں شوہر- خواجہ سرا- ایک کلمہ جس سے برابر والے یا اپنے سے کم درجہ شخص کو خطاب کرتے ہیں، بیٹا وغیرہ معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے-
*(قائداللغات و فیروزاللغات)*
(سائیں-خاوند- فقیر، بھکاری وغیرہ میں بھی استعمال ہوتا ہے۔
(قائداللغات)
ان معانی سے آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ اللہ جل شانہٗ کے شایانِ شان نہیں ہیں، ان میں سے بعض معانی ایسے ہیں جو ذاتِ باری تعالی کے لئے نقص اور اہانت کا پہلو رکھتے ہیں، مفتی منیب الرحمن صاحب فر ما تے ہیں، لہٰذا ہماری رائے میں اللہ میاں- اور اللہ سائیں- بولنے سے بالکل گریز کرنا چاہیے اور اپنے گھروں- دفاتر- مجالس اور بچوں کے ساتھ گفتگو کرتے وقت اللہ جل شانہ کا ذکر کرتے وقت اسی احتیاط پر عمل کرنا چاہیے اللہ تعالی کی شان جلالت تو بہت بلند تر ہے وہ ہر نقص عیب اور کمزوری سے پاک ہے-
(ارشاد باری تعالی ہے، سُبْحٰنَ رَبِّكَ رَبِّ الْعِزَّةِ عَمَّا یَصِفُوْنَ(الصافات آیت180)
(ترجمہ: آپ کا رب جو بڑی عزت والا ہے ہر اس عیب سے پاک ہے جو وہ بیان کرتے ہیں-
ذاتِ پاک رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لئے بھی اللہ جل شانہ نے ایسا ذو معنی کلمہ استعمال کرنے سے منع فرمایا- جس کے معنی شانِ رسالت کے مطابق نہ ہوں، خواہ استعمال کرنے والے کی نیت بھی درست ہو لیکن اس سے کوئ بدنیت بدمذہب اور بدطینت شخص دور کا ایسا معنی مراد لے سکتاہے جس سے اہانت اور بے ادبی کا پہلو نکلتاہو=
ارشاد باری تعالیٰ ہے..یٰآیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْ لَاتَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَقُوْلُوانْظُرنَا وَاسْمَعُوْ وَلِلْکٰفِرِیْنَ عَذَابُٗ اَلِیْم=
(البقرہ آیت 104)
(ترجمہ: اے ایمان والو اگر دوران کلام رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کو اپنی جانب متوجہ کرنا چا ہو تو رَاعِنَا یَارسول اللہ..نہ کہو بلکہ اُنْظُرْنَا..یارسول اللہ کہو، اور ادب کا تقاضہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ و سلم کی بات کو خوب توجہ سے سنو، تاکہ انہیں دوبارہ بتانے میں زحمت نہ دینی پڑے-
(تفہیم المسائل جلد1 صفحہ29 تا30 ضیاء القرآن پبلی کیشنز لاہور)
*واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم ﷺ*
✍کتبــــــــــــــــــــــہ
ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پنجاب پاکستان-
18-8-2019
الجواب صحیح والمجیب مثاب
فقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ
خادم الافتاء والحدیث دار العلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ بنگال ھند

0 تبصرے