تحریر نمبر3 

سجدہ میں پاؤں کی انگلیوں کا پیٹ لگانا


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ سجدہ میں پاؤں کی کتنی انگلیوں کا لگنا ضروری ہے۔ نیز اگر کسی نے دونوں پاؤں کی انگلیاں اٹھا کر سجدہ کیا تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے دلائل کی روشنی میں جواب عنایت فرما دیں؟

(سائل حافظ ثاقب ضلع خوشاب)

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

  وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ  


 الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب 

(صورت مسئولہ میں حکم شرع یہ ہے کہ چاہے امام ہو یا غیر امام یعنی تنہا نماز پڑھنے والا سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں میں سے کسی ایک انگلی کا پیٹ زمین پر لگانا فرض ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے اور دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا اور ان کا قبلہ رو ہونا سنت ہے، مذکورہ سوال میں اگر کوئی اس طرح سجدہ کرے کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہیں یا پاؤں کا صرف ظاہری حصہ زمین پر لگا یا، یا صرف انگلیوں کی نوک لگائ اور ایک بھی انگلی کا پیٹ زمین پر نہ لگا تو اس طرح نماز نہیں ہوگی اس نماز کو دوبارہ  پڑھنا لازم ہوگا--اسی طرح اگر ایک انگلی کا پیٹ تو زمین پر لگا یا مگر دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر نہ لگا یا تو ترک واجب کی وجہ سے گناہ بھی ہوگا اور نماز واجب الاِعادہ ہوگی--

(فتاویٰ فیض الرسول میں ہے، اگر سجدہ میں دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے یا صرف انگلیوں کے سرے زمین سے لگے اور کسی انگلی کا پیٹ بچھا نہیں تو اس صورت میں نماز بلکل نہیں ہوگی اور اگر ایک دو انگلیوں کے پیٹ زمین سے لگے اور اکثر کے پیٹ نہیں لگے تو اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی--

(اشعۃ اللمعات جلد-1-صفحہ394-پر ہے کہ اگر ہردو پائے بردارد نماز فا سد است و اگر یک پائے بردارد مکروہ ست--

(اور درمختار مع ردالمحتار جلد-1-صفحہ 313 پر ہے، وضع اصبح واحدہ منھماشرط--اور اسی جلد کے صفحہ351- پر ہے، فیه يفترض وضع اصابع القدم ولوواحدة نحوالقبلة والالم تجزوالناس عنه غافلون-

  (ماخوذ فتاویٰ فیض الرسول  جلد-1-صفحہ-251- مطبوعہ شبیربرادرز لاہور) 

(امام اہلسنت مجدد دین و ملت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں؛ کہ حالت سجدہ میں قدم کی دس انگلیوں میں سے ایک کے باطن پر اعتماد مذہب معتمد اور مفتی بہ میں فرض ہے اور دونوں پاؤں کی تمام یا اکثر انگلیوں پر اعتماد بعید نہیں کہ واجب ہو اس بنا پر جو حلیہ میں ہے اور قبلہ کی طرف متوجہ کرنا بغیر کسی انحراف کے سنت ہے-

 (فتاویٰ رضویہ جلد-7 صفحہ-376-رضا فاؤنڈیشن لاہور) 

صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ پیشانی کا زمین پر جمنا سجدے کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط، تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی جب بھی نہ ہوئی، اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں-

 (بہارشریعت حصہ-3-صفحہ 513- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)  

(مزید بہار شریعت حصہ تین میں ہے، کہ سجدہ میں دونوں پاؤں کی دسوں انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا سنت ہے اور ہر پاؤں کی تین تین انگلیوں کے پیٹ زمین پر لگنا واجب، اور دسوں کا قبلہ رو ہونا سنت ہے، سجدہ میں ایک پاؤں اٹھا ہوا رکھنا مکروہ و ممنوع ہے-

*(بہار شریعت-حصہ-3-صفحہ530- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*

(شمس العلماء فقیہ اجل حضرت مولانا شمس الدین احمد رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ تحریر فرماتے ہیں، کہ سجدہ میں اس طرح جائے کہ پہلے گھٹنا زمین پر رکھے پھر ہاتھ پھر دونوں ہاتھوں کے بیچ میں سر رکھے اس طور پر کہ پہلے ناک تب ما تھا اور ناک کی ہڈی زمین پر جم جائے اور نظر ناک کی طرف رہے اور بازوؤں کو کروٹوں سے اور پیٹ کو رانوں سے اور رانوں کو پنڈلیوں سے جدا رکھے، اور دونوں پاؤں کی سب انگلیوں کو قبلہ کی طرف رکھے اس طرح کہ انگلیوں کا سارا پیٹ زمین پرجمار ہے-

  (قانون شریعت-حصہ-1-صفحہ-90- مطبوعہ شاکرپبلی کیشنزلاہور) 

(حضرت علامہ قبلہ بحرالعلوم مفتی عبدالمنان اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ اپنے فتاویٰ میں تحریر فرماتے ہیں، کہ سجدے میں کم از کم ایک انگلی مضبوطی سے زمین پر جمانا فرض ہے، مزید فر ماتے ہیں، کہ سجدے کے اندر ہر پیر کی کم از کم تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے، جس میں انگوٹھا بھی شامل ہے اگر تین بار سبحان رہی الاعلیٰ کہنے کی مقدار تک تین میں سے کوئی اٹھی رہ گئی تو نماز مکروہ تحریمی قابل اعادہ ہوگی-

 *(فتاویٰ بحرالعلوم-کتاب الصلوۃ-جلد-1-صفحہ-294- مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)*

(مزید دلائل درج ذیل ہیں)

(فتاویٰ اتراکھنڈ،جلد1 صفحہ138- ناشر نوری دارالافتاء مدینہ مسجد کاشی پور ہند)

*(فیضان فرض علوم جز 1صفحہ390- مکتبہ امام اہلسنت لاہور)*

 *(فتاویٰ فخر ازہر جلد1 صفحہ،173)* 

 *(فتاویٰ مرکزتربیت افتاءجلد-1-صفحہ128- مطبوعہ فقیہ ملت اکیڈمی میں)*

 *(مختصر فتاویٰ اہلسنت قسط 1صفحہ 38- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*

*(فتاویٰ بریلی شریف-صفحہ 144 مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)*

 *(فتاویٰ فقیہ ملت جلد 1صفحہ168- مطبوعہ شبیر برادرز لاہور)*


 *واللہ اعلم عزوجل ورسولہ اعلم  ﷺ*


✍کتبــــــــــــــــــــــہ

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی متخصص مرکزی دارالافتاء اہلسنت میانوالی سٹی پنجاب پاکستان-

📲03137606372

2-9-2019


 *تصدیق و تصحیح* 

سجدہ میں پاؤں کی انگلیاں لگانے کے تعلق سے آپ نے جو جواب لکھاہے میں اسکی مکمل تائید و تصدیق کرتا ہوں۔ابوالحسنین  محمد عارف محمود خان معطر قادری۔مرکزی دارالافتاءاہلسنت محلہ نورپورہ میانوالی سٹی پنجاب پاکستان--


ماشاءاللہ بہت اچھا تحریری جواب لکھا ہے خادم اہلسنت پیر مفتی احمد رضا سیالوی صاحب آف راولپنڈی پاکستان--


❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥ ════ ❥ ❥ ❥