تحریر نمبر5 

عورت کے مخصوص ایام ختم ہوتے ہی مباشرت کرنے کا مسئلہ


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ؛ کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ اگر عورت کو عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوجائے تو کیا اس سے ہمبستری کرنا جائز ہے؟


—سائل اظہر فریدی ملتان—



➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

 *وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ* 


*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*

(مذکورہ صورت میں اگر تو حیض پورے دس دن پر ختم ہوا تھا تو حیض ختم ہوتے ہی صحبت کرنا جائز ہے اگرچہ ابھی غسل نہ کیا ہو، لیکن مستحب یہی ہوگا کہ غسل کر نے کے بعد ہی صحبت کی جائے، اور اگر عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی حیض ختم ہوا تو عورت غسل کرکے نماز شروع کر سکتی، لیکن اس سے صحبت کرنا اس وقت تک جائز نہیں ہوگا جب تک عادت کے دن پورے نہ ہوجائیں-

(درمختار میں ہے، یحل وطؤھا اذا انقطع حیضھا لاکثرہ بلا غسل وجوبا بل ندبا وان انقطع لاقلہ فان لدون عادتھا لم یحل (الوطؤ وان اغتسلت لان العود فی العادۃ غالب-(یعنی: اگر عورت کا حیض زیادہ دنوں کے بعد ختم ہو تو اس کے ساتھ غسل واجب بلکہ مستحب غسل سے بھی پہلے وطی کرنا جائز ہے، اور اگر کم از کم مدت میں ختم ہو تو دیکھیں گے اگر عادت سے کم میں ختم ہو تو جماع جائز نہیں، اگرچہ غسل کرلے کیونکہ عادت کی طرف لَوٹنا غالب ہے-

*(الدر المختار باب الحیض جلد1صفحہ151-مطبوعہ مجتبائ)*

(سیدی اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اس طرح کے ایک سوال کے جواب میں تحریر فرماتے ہیں، کہ جو حیض اپنی پوری مدت(یعنی: دس دن کامل سے کم میں ختم ہوجائے اس میں دو صورتیں ہیں یا تو عورت کی عادت سے بھی کم میں ختم ہوا یعنی اس سے پہلے  مہینے میں جتنے دنوں آیا تھا اتنے دن بھی ابھی نہ گزرے اور خون بند ہوگیا جب تو اس سے صحبت ابھی جائز نہیں، اگرچہ نہالے اور اگر عادت سے کم نہیں مثلاً پہلے مہینے سات دن آیا تھا اب بھی سات یا آٹھ روز آکر ختم ہوا یا یہ پہلا ہی حیض ہے جو اس عورت کو آیا اور دس دن سے کم میں ختم ہوا تو اس سے صحبت جائز ہونے کے لئے دو باتوں سے ایک بات ضرور ہے یا تو عورت نہالے اور اگر بوجہ مرض یا پانی نہ ہونے کے تیمم کرنا ہو تو تیمم کرکے نماز بھی پڑھ لے، خالی تیمم کافی نہیں یا طہارت نہ کرے تو اتنا ہو کہ اس پر کوئی نمازِ فرض، فرض ہوجائے(یعنی: نمازِ پنجگانہ سے کسی نماز کا وقت گزرجائے جس میں کم سے کم اس نے اتنا وقت پایا ہو جس میں نہاکر سر سے پاؤں تک ایک چادر اوڑھ کر تکبیر تحریمہ کہہ سکتی تھی، اس صورت میں بے طہارت بھی اس سے صحبت جائز ہوجائے گی، ورنہ نہیں-

*(فتاویٰ رضویہ،جلد4،صفحہ 352- مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن لاہور)*

(بہار شریعت میں ہے، کہ حیض پورے دس دن پر ختم ہوا تو پاک ہوتے ہی اس سے جماع جائز ہے، اگرچہ اب تک غسل نہ کیا ہو مگر مستحب یہ ہے کہ نہانے کے بعد جماع کرے، دس دن سے کم میں پاک ہوئی تو تاوقتیکہ غسل نہ کرلے یا وہ وقتِ نماز جس میں پاک ہوئی گزر نہ جائے جماع جائز نہیں اور اگر وقت اتنا نہیں تھا کہ اس میں نہاکر کپڑے پہن کر ﷲ اکبر کہہ سکے تو اس کے بعد کا وقت گزر جائے یا غسل کرلے تو جائز ہے، ورنہ نہیں،  عادت کے دن پورے ہونے سے پہلے ہی ختم ہو گیا تو اگرچہ غسل کرلے جماع ناجائز ہے تاوقتیکہ عادت کے دن پورے نہ ہولیں، جیسے کسی کی عادت چھ دن کی تھی اور اس مرتبہ پانچ ہی روز آیا تو اسے حکم ہے کہ نہا کر نماز شروع کردے مگر جماع کے لیے ایک دن اور انتظار کرنا واجب ہے-

*(بہار شریعت،حصہ 2صفحہ 383- مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*


*واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ*

✍کتبــــــــــــــــــــــہ

ابورضا محمد عمران عطاری مدنی

🤳🏻03137606372

25-2-2019


الجواب صحیح والمجیب مثاب

فقیر محمد شہروز عالم اکرمی عفی عنہ

خادم الافتاء والحدیث دار العلوم قادریہ حبیبیہ فیلخانہ ہوڑہ بنگال ھند