کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو غسل دینے کا کیا طریقہ ہے اسان الفاظ میں بیان فرمادیں؟
کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو غسل دینے کا کیا طریقہ ہے اسان الفاظ میں بیان فرمادیں؟


  تحریر نمبر12

 

غسل میت کا طریقہ 


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ : کیا فر ماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میت کو غسل دینے کا کیا طریقہ ہے اسان الفاظ میں بیان فرمادیں؟

(سائل محمد عثمان عطاری)

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

 *وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ* 


*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*

(صورت مسئولہ میں میت کو غسل دینے سے پہلے اگر بتّیاں یا لُوبان جلا کر تین--پانچ--یاسات بار غسل کے تختے کو دُھونی دیں(یعنی اتنی بار تختے کے گِرد پِھرائیں کہ تختے پر مّیت کو اس طرح لٹائیں جیسے قَبر میں لِٹاتے ہیں ناف سے گُھٹنوں سَمیت کپڑے سے چھپادیں، آج کل غسل کے دوران سفید کپڑا اُڑھاتے ہیں پانی لگنے سے بے پردگی ہوتی ہے، لہٰذا کتّھئ یا گہرے رنگ کا اتنا موٹا کپڑا ہوکہ پانی پڑنے سے سِتر نہ چمکے کپڑے کی دوتہیں کرلیں تو زیادہ بہتر ہے، اب نہلانے والا اپنے ہاتھ پر کپڑا لپیٹ کر پہلے دونوں طرف اِستِنجا کروائے)یعنی پانی سے دھوئے)پھر نماز جیسا وُضو کروائیں(یعنی تین بارمنہ پھر کُہنیوں سَمیت دونوں ہاتھ تین تین بار دُھلائیں، پھر سرکا مسح کریں، پھر تین بار دونوں پاؤں دُھلائیں، میّت کے وُضو میں پہلے گِٹوں تک ہاتھ دُھونا، کُلی کرنا، اور ناک میں پانی ڈالنا نہیں ہے، البتّہ کپڑے یاروئ کی پھُریری بِھگو کر دانتوں مَسُوڑوں، ہونٹوں اور نَتھنوں پر پھیردیں، پھر سر یا داڑھی کے بال ہوں تو دھوئیں، اب بائیں(یعنی اُلٹی)کروٹ پر لِٹا کر بیری کے پتوں کا جوش دیا ہوا(نیم گرم پانی(یا موسم کے اعتبار سے اور یہ نہ ہو تو خالص پانی نیم گرم سر سے پاؤں تک بہائیں کہ تختہ تک پُہَنچ جائے، پھر سیدھی کروٹ لِٹا کر بھی اسی طرح کریں پھر ٹیک لگا کر بٹھائیں اور نرمی کے ساتھ پیٹ کے نچلے حصّے پر ہاتھ پھیریں اور کچھ نکلے تو دھوڈالیں، دوبارہ وُضو اور غسل کی جاجت نہیں، پھر آخِر میں سَر سے پاؤں تک تین بار کا فور کا پانی بہائیں پھر کسی پاک کپڑے سے بدن آہستہ سے پونچھ دیں، ایک بار سارے بدن پر پانی بہانا فرض ہے، اور تین بار سنّت ہے، جہاں غسل دیں مستحب یہ ہے کہ پردہ کر لیں کہ سوائے نہلانے والوں اور مددگاروں کے دوسرا نہ دیکھے، نہلاتے وقت خواہ اس طرح لٹائیں جیسے قبر میں رکھتے ہیں، یا قبلہ کی طرف پاؤں کر کے یا جو آسان ہو کریں-

(یاد رہے کہ نہلانے والا شخص با طہارت ہو، جنبی یا حیض والی عورت نے غسل دیا تو کراہت ہے، مگر غسل ہو جائے گا اور بے وضو نے نہلایا تو کراہت بھی نہیں، مگر بہتر یہ ہے کہ نہلانے والا میّت کا سب سے زیادہ قریبی رشتہ دار ہو، وہ نہ ہو یا نہلانا نہ جانتا ہو تو کوئی اور شخص جو امانت دار و پر ہیزگار ہو-نہلانے والا معتمد شخص ہو کہ پوری طرح غسل دے اور جو اچھی بات دیکھے، مثلاً چہرہ چمک اٹھا یا میّت کے بدن سے خوشبو آئی تو اسے لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اگر کوئی بُری بات دیکھی، مثلاً چہرے کا رنگ سیاہ ہوگیا یا بدبو آئی یا صورت یا اعضا میں تغیر آیا تو اسے کسی سے نہ کہے اور ایسی بات کہنا جائز بھی نہیں ہے، کہ حدیث میں ارشاد ہوا، اپنے مُردوں کی خوبیاں ذکر کرو اور اُس کی برائیوں سے باز رہو-

 *(ماخوذ بہار شریعت حصہ4، صفحہ810 تا811-مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)*


*واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ*

✍کتبــــــــــــــــــــــہ

ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ 

🤳🏻03137606372

18-10-2019