*تحریر نمبر13*

دعائے قنوت کی جگہ کوئ اور دعا پڑھنا؟

کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ دعائے قنوت یاد نہ ہو تو اس کی جگہ پر ہر روز سورۂ اخلاص پڑھتے رہیں تو کیا نماز ہوجائے گی؟
 کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ دعائے قنوت یاد نہ ہو تو اس کی جگہ پر ہر روز سورۂ اخلاص پڑھتے رہیں تو کیا نماز ہوجائے گی؟


السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ: کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے متعلق کہ دعائے قنوت یاد نہ ہو تو اس کی جگہ پر ہر روز سورۂ اخلاص پڑھتے رہیں تو کیا نماز ہوجائے گی؟

(سائل عبدالرؤف لیہ)

➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖➖

 *وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ تعالیٰ و برکاتہ* 


*الجـــــوابــــــــــــ" بعون الملک الوھّاب*

(صورت مسئولہ میں سورۂ اخلاص پڑھنے سے نماز تو ہوجائے گی، لیکن اگر دعائے قنوت یاد نہ ہو تو یاد کرنی چاہئے کیونکہ جو عام معروف دعا ہے(اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ، آخر تک)خاص اس دعا کا پڑھنا سنت مبارکہ ہے، ہاں یہ یاد نہ ہو تو اس کی جگہ پر(رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ" پڑھ سکتے ہیں، اور اگر یہ دعا بھی یاد نہ ہو، تو پھر اَللّٰھُمَّ اغفرلی، تین بار پڑھ سکتے ہیں، یا تین بار یَا رَبّ کہہ لے، اسی طرح کے ایک سوال کے جواب میں امام اہلسنت مجدد دین و ملت سید اعلیٰ حضرت تحریر فرماتے ہیں، دعائے قنوت اگر یاد نہیں! یاد کرنا چاہئے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے، اور جب تك یاد نہ ہو تو(اَللّٰھُمَّ رَبَّنَاۤ اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَةً وَّ فِی الْاٰخِرَةِ حَسَنَةً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ" پڑھ لیا کرے، یہ بھی یادنہ ہو تو اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ 3 بار کہہ لیا کرے، یہ بھی نہ آتا ہو تو صرف یَا رَبّ 3 بارکہہ لے واجب اداہوجائے گا، رہا یہ کہ قل ھو ﷲ شریف پڑھنے سے بھی یہ واجب اداہوا کہ نہیں، اتنے دنوں کے وتر کا اعادہ لازم ہو، ظاہریہ ہے کہ ادا ہو گیا کہ وہ ثناء ہے اور ہرثناء دعا ہے(بل قال العلامۃ القاری وغیرہ من العلماء کل دعاء ذکر وکل ذکردعاء((وقد قال صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم افضل الدعاء الحمد ﷲ۔ رواہ الترمذی و حسنہ و النسائی و ابن ماجۃ و ابن حبان و الحاکم وصححہ عن جابر بن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالٰی عنھم ھذا ولیحرر وﷲ تعالٰی اعلم۔

(یعنی: بلکہ علامہ علی قاری اور دیگر علماء نے فرمایا ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دعا-- رسالت مآب صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا فرمان ہے سب سے افضل دعا الحمدﷲ ہے۔ اسے ترمذی نے روایت کرکے حسن کہا۔ نسائی، ابن ماجہ، ابن حبان اور حاکم نے حضرت جابربن عبد ﷲ رضی ﷲ تعالٰی عنہما سے روایت کر کے صحیح کہا اسے محفوظ کرلو اور غورکرنا چاہئے-

 *(مرقات شرح مشکوٰۃ الفصل الثانی من باب التسبیح والتحمیدالخ مطبوعہ مکتبہ امدایہ ملتان جلد5صفحہ112)*

 *(جامع الترمذی ابواب الدعوات جلد2صفحہ174)*

 *(مستدرك علی الصحیحین باب افضل الذکر الخ بیروت جلد1صفحہ498)*

 *(فتاویٰ رضویہ،جلد7،صفحہ485 رضافاؤنڈیشن لاهور)*

(مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالٰی علیہ تحریر فرماتے ہیں، دعائے قنوت کا پڑھنا واجب ہے اور اس میں کسی خاص دعا کا پڑھنا ضروری نہیں، بہتر وہ دعائیں ہیں جو نبی کریم صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے ثابت ہیں اور ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھے، جب بھی حرج نہیں-

 *(بہار شریعت حصہ4صفحہ654-مکتبۃ المدینہ)*


*واللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم ﷺ* 

✍کتبــــــــــــــــــــــہ

ابورضا محمد عمران عطاری عفی عنہ متخصص فی الفقہ

🤳🏻03137606372

20-10-2019


تصدیق و تصحیح

الجواب صحیح ابوالحسنین محمد عارف محمود خان معطر قادری،خادم الافتاء مرکزی دارالافتاء اہلسنت،محلہ نورپورہ میانوالی سٹی پنجاب پاکستان۔